ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نائیس گھپلے پر ایوان کمیٹی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ،بی جے پی اور جے ڈی ایس اراکین کاہنگامہ ، کارروائی ملتوی

نائیس گھپلے پر ایوان کمیٹی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ،بی جے پی اور جے ڈی ایس اراکین کاہنگامہ ، کارروائی ملتوی

Thu, 01 Dec 2016 11:26:22    S.O. News Service

بنگلورو۔30؍نومبر (ایس اونیوز )ریاستی اسمبلی میں آج نائیس گھپلے پر ایوان کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن بی جے پی اور جنتادل (ایس) نے شور وغل کیا ،جس کی وجہ سے کارروائی کو کچھ دیر کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔ نائس گھپلے کے سلسلے میں ایوان کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی ضد کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں کے اراکین نے اسپیکر کی میز کے سامنے دھرنا شروع کردیا، جس کے سبب اسپیکر کولیواڈ کو کچھ وقت کیلئے کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ آج صبح جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی ایوان میں کل کشمیر کے ناگروٹہ فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے میں ہلاک فوجیوں اور معروف فنکار اشوک بارا دنی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد تمام پارٹیوں کے اراکین نے پرزور مطالبہ کیا کہ نائیس گھپلے کے متعلق ایوان میں رپورٹ پیش کی جائے۔بی جے پی اور جنتادل (ایس) کے اراکین نے جہاں اس بات پر زور دیا تو دوسری طرف کانگریس کے ڈاکٹر رفیق احمد اور جے آر لوبو نے بتایاکہ اس سلسلے میں کمیٹی نے اعداد وشمار کے ساتھ رپورٹ پیش کی ہے ،اسے ایوان میں لایا جائے۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے بتایاکہ ایوان کمیٹی کی رپورٹ اسپیکر کے دفتر پہنچا دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے اور خاطیوں کو سزاوار بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایوان کمیٹی رپورٹ پیش کردئے جانے کے سبب نائیس کمپنی کے سربراہ اور رکن اسمبلی اشوک کھینی جو ا س معاملے کے کلیدی ملزم ہیں، اس رپورٹ پر سپریم کورٹ سے اسٹے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے قبل ہی رپورٹ ایوان میں پیش ہوجانی چاہئے۔کمیٹی کے اراکین ستیش ریڈی اور ایس آر وشواناتھ نے بتایاکہ یہ 20ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کا گھپلہ ہے، کمیٹی نے تمام دستاویزات سمیت اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔بی جے پی کے ہی وشویشور ہیگڈے کاگیری نے بھی فوراً رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ رپورٹ اگر پیش نہیں کی گئی تو اسپیکر کا مقام اور مرتبہ مجروح ہوجائے گا۔ جنتادل (ایس) کے کے ایم شیولنگے گوڈا نے کہاکہ کمیٹی نے 30مرتبہ میٹنگ کرکے کافی حقائق یکجا کئے ہیں اور ایک اچھی رپورٹ ایوان کو پیش کرنے کی تیاری کی ہے۔ اس رپورٹ کو ایوان میں پیش کرنے میں اس قدر تاخیر کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ سرودیا پکشا کے کے ایس پٹنیا نے کہاکہ 18 سال سے نائیس پراجکٹ کی وجہ سے کسانوں کی زندگی دو بھر ہوچکی ہے۔ ان کی زمینات کو ترقی دی جاسکتی ہے اور نہ ہی وہ اسے فروخت کر پارہے ہیں۔ جنتادل (ایس) کے ایک اور رکن سدھاکر لال نے کہاکہ وہ خود بھی کمیٹی کے ممبر ہیں ، کمیٹی نے کافی جدوجہد سے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ اپوزیشن کے نائب لیڈر آر اشوک نے کہاکہ 20 ہزار کروڑ روپیوں کے گھپلے کے متعلق رپورٹ اگر ایوان میں پیش نہ کی گئی تو عوام میں کئی طرح کے شکوک وشبہات پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شبہات پیدا ہورہے ہیں کہ کچھ طاقتور وزرا رپورٹ کی پیشی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو فوراً رپورٹ پیش کی جائے ، اس مرحلے میں مداخلت کرتے ہوئے وزیربرائے اعلیٰ تعلیمات بسوراج رایا ریڈی نے کہاکہ وہ خود بھی اس کمیٹی کے رکن رہے ہیں اور رپورٹ پر انہوں نے دستخط کیا ہے اسی لئے رپورٹ ایوان میں پیش ہونی چاہئے۔ تمام اراکین کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کولیواڈ نے کہاکہ رپورٹ کا انہوں نے اب تک مطالعہ نہیں کیا ہے فوری طور پر مطالعہ کرکے وہ اس پر دستخط کردیں گے۔ چونکہ وزیر برائے پارلیمانی امور ٹی بی جئے چندرا اس کمیٹی کے چیرمین ہیں انہیں اور دیگر اراکین کو طلب کرکے وہ تبادلۂ خیال کریں گے اور رپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ لیا جائے گا۔ این آئی سی ای جس کی قیادت امیر این آر آئی تاجر بیدر کے آزاد رکن اسمبلی اشوک کھینی کررہے ہیں ' بنگلورو میں آوٹر رنگ روڈ کی تعمیر اور ریاستی دارالحکومت کے علاوہ میسور میں اکسپریس وے کی تعمیر سے وابستہ تھے ۔اس پروجیکٹ کا معاہدہ 2001میں اس وقت کے وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا اور این آئی سی ای کے درمیان طے پایا تھا تاہم تنازعہ اور اراضی دینے سے کسانوں کے انکار پر یہ پروجیکٹ نامکمل تھا۔ دفعہ 69کے تحت دی گئی اجازت پر اس مسئلہ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف کے لیڈر جگدیش شٹر نے ایوان میں رپورٹ رکھنے میں تاخیر پراسپیکر کے مقصد پر سوال اٹھایا۔انہو ں نے کہا کہ ایوان کی کمیٹی کی ٹیم کی دو سال پہلے تشکیل عمل میں آئی۔ اس نے اس بڑے گھپلہ کو منظر عام پر لانے کے لئے کافی جدوجہد کی تھی اور ریاست کے عوام کو اس کے بارے میں فوری معلومات ہونی چاہئے۔بی جے پی کے رکن وشواناتھ ہیگڈے کاگیری نے کہا کہ اگر رپورٹ فوری طور پر پیش نہیں کی گئی تو اسپیکر پر شبہ ہوسکتا ہے ۔بی جے پی کے ایک اور رکن وشواناتھ نے کہا کہ اس اراضی کے گھپلہ جس میں این آئی سی ای ملوث ہے تقریباً 22ہزار کروڑ روپے کا ہے اور نجی پروموٹر نے قواعد کے خلاف بھاری رقم پر ہزار ایکڑاراضی کو فروخت کردیا اگرچہ کہ کولیواڈ نے حزب اختلاف ارکان کو یقین دہانی کروائی کہ وزیر قانون کے ساتھ ملاقات کے بعد کل ایوان میں رپورٹ پیش کی جائے گی ،لیکن بی جے پی کے ارکان پر اس کا اثر نہیں ہوا۔قبل ازیں پارٹی خطوط سے بالا تر ہوکر ارکان نے کہا کہ این آئی سی ای سڑک کو مربوط کرنے کے پروجیکٹ میں اس پروجیکٹ کے لئے الاٹ اراضی سے زیادہ زرعی اراضی پر قبضہ کیا گیا۔


Share: